دعا بھی عمل
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
جس معاملہ میں طفیل بن عمرو صرف حال کو دیکھ رہے تھے اس معاملہ میں آپ نے ان کے اندر مستقبل کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دی۔ دعا ایک اعتبار سے خدا سے مانگنا ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ اپنی نفسیات کی صالح تربیت ہے۔ وہ اپنے اندر ربانی طاقت کو بیدار کرنا ہے۔ طفیل بن عمر و جب اس نئی نفسیات کے ساتھ دوبارہ اپنے قبیلہ میں گئے تو وہ گویا ایک نئے انسان بن چکے تھے۔ اب وہ اس قابل تھے کہ زیادہ مؤثر انداز میں حق کی دعوت ان لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس کے بعد نتیجہ ظاہر تھا۔ پورے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جس سوسائٹی میں لوگ ایک دوسرے کے اتنے خیر خواہ بن جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے خدا سے دعا کرنے لگیں وہاں اس کا لازمی فائدہ یہ ہوگا کہ پوری سوسائٹی میں مثبت نفسیات کو فروغ حاصل ہوگا، اور بلاشبہ سوسائٹی بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جو چیز مطلوب ہے وہ یہی مثبت نفسیات ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader