Urdu book · دینِ انسانیت

رحمت کلچر

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

رحمت کلچر اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے۔ اسلام میں رحمت کا پہلو اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ وہ ان لوگوں کی پوری زندگی پر چھایا جاتا ہے جو اسلام کے اصولوں کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ کہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو) ایک شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے: الحمدللہ۔ اور سننے والا کہے: یرحمك اللہ (اللہ تمہارے اوپر رحمت کرے) نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو تو کہے: اللهم افتح لی ابواب رحمتک (اے اللہ، مجھ پر رحمت کے دروازے کھول دے) اسی طرح نمازی لوگ جب نماز کو ختم کرتے ہیں تو وہ اپنے دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (تم لوگوں کے اوپر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)۔ اس طرح ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں سلامتی اور رحمت کے کلمات لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں۔ رحمت کے انداز میں سوچنا اور رحمت کے انداز میں بولنا یہ اہلِ ایمان کی امتیازی صفت بن جاتی ہے۔ ان کی پوری زندگی رحمت والفت کے تقاضوں میں ڈھل جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے ایسے کلمات منقول ہیں جن کا آغاز اس طرح کے الفاظ سے ہوتا ہے: رَحِمَ اللہ امرأً (سنن الترمذی، حدیث نمبر 430) رَحِمَ اللّٰہ رَجُلًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2076) رَحِمَكَ اللّٰہُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1057) رَحِمَ اللہُ امْرَأَةً (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1308) يََرْحَمُ اللہُ نِسَاءَ الْمُھَاجِرَاتِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4758) يََرْحَمُكَ اللّٰہُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6226)، وغیرہ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج بنانا چاہتا ہے۔ وہ دراصل رحمت ومحبت کا مزاج ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ہر موقع پر ایک آدمی کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page