Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے آدمی کے لیے رحمت کے جذبات ابھریں۔ ہر موقع پر ایک آدمی دوسرے آدمی کو رحمت و الفت کا تحفہ پیش کرے۔ حتی کہ اظہار اختلاف کا موقع ہو تب بھی مومن کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں کہ : خدا تمہارے اوپر رحم کرے، تم نے ایسا کیوں کیا۔ خدا رحیم ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی رحیم بن کر دنیا میں رہیں۔ آفاقیت نہ کہ محدودیت قرآن میں رب العالمین ہے (1:2)، رب القوم نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آفاقیت کو پسند کرتا ہے نہ کہ محدودیت کو۔ قرآن میں پیغمبر کو رحمت (21:107) عالم کہا گیا ہے، آپ کو رحمت عالم نہیں کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام محبت کا مذہب ہے، وہ نفرت کا مذہب نہیں۔ قرآن میں الصلح خیر (4:128) ہے، قرآن میں الحرب خیر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام صلح کا ماحول لانا چاہتا ہے نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کا ماحول۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ پڑھو (العلق، 96:1)۔ یہ نہیں فرمایا کہ گولی مارو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام علم کلچر کا نام ہے نہ کہ گن کلچر کا۔ قرآن میں صبر (39:10) پر زور دیا گیا ہے، قرآن میں بے صبری کی تعلیم نہیں دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی ایذاؤں پر تحمل سے کام لیا جائے، نہ یہ کہ کسی سے ایذا پہنچنے تو مشتعل ہو کر اس سے لڑائی شروع کردی جائے۔ قرآن میں بلند اخلاقی (خلق عظیم) (68:4) کی تعریف کی گئی ہے نہ کہ برابری کے اخلاق کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کے سلوک کو نظر انداز کر کے ان کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا معاملہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page