دینِ انسانیت
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت میں جن اہل ایمان کا ذکر ہے، یہ وہ لوگ تھے جن پر ان کے مخالفوں نے ظلم کیا۔ مگر وہ منفی ردِعمل میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے اندر یہ جذبہ نہیں بھڑکا کہ وہ ظالموں کو سبق سکھائیں۔ یا ان سے ان کے ظلم کا انتقام لیں۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ اس مقام سے ہٹ گئے جہاں ان کے اوپر ظلم ہو رہا تھا۔ وہ انسانوں سے الجھنے کے بجائے خدا کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ان کے اس عمل ہجرت کو قرآن میں صبر کہا گیا۔ اور پھر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا پر توکل کرنے والے ہیں۔ صبر کے ساتھ توکل کا ذکر نہایت اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی صبر کے طریقہ پر قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے اندر توکل علی اللہ کی صفت نہ ہو۔ ناموافق صورتحال پیش آنے کے بعد جو آدمی بے برداشت ہو کر لڑنے لگے، وہ اپنی اس روش سے ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کو جانتا تھا۔ وہ خدا کی برتر طاقتوں سے واقف نہ تھا۔ اگر وہ خدا کی خدائی کو اور اس کے وعدوں کو جانتا تو وہ صبر کرتا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا کہ صبر کر کے میں زیادہ بڑی طاقت کو اپنے مخالف کے مقابلہ میں کھڑا کر رہا ہوں۔ یہ طاقت خود مالکِ کائنات کی ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ حسنِ اخلاق مُوَطَّأُ الإِمَامِ مَالِكٍ (کتاب الجامع، ما جاء فی حسن الخلق) میں ایک روایت ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تا کہ حسن اخلاق کو مکمل کروں۔ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ (موطأ مالک، حدیث نمبر 1885)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader