دینِ انسانیت
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
کو حکم دیجیئے کہ وہ جا کر عبد اللہ بن ابی کو قتل کردے۔ اس کے بعد اسید بن حصیر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ عبداللہ بن ابی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے ۔ وہ مدینہ کا سردار تھا، آپ کے آنے کے بعد اس کی حیثیت ختم ہوگئی ۔ وہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس کی حکومت اس سے چھین لی ہے۔ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو مشورہ آیا ۔ ایک تشدد کا اور دوسرا نرمی اور درگزر کا۔ آپ نے پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا اور دوسرے طریقہ کو اختیار فرمایا۔ چنانچہ آپ نے عبداللہ بن ابی کے خلاف کارروائی کیے بغیر فوری طور پر مسیح سے کوچ کا حکم دے دیا اور اس وقت تک نہیں رکے جب تک مدینہ پہنچ نہیں گئے۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 335-334) صبر و توکل وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ- الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (16:41-42) - یعنی ، اور جن لوگوں نے اللہ کے لیے اپنا وطن چھوڑا، بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا، ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا ثواب تو بہت بڑا ہے، کاش وہ جانتے۔ وہ ایسے ہیں جو صبر کرتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کے ساتھ توکل کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ صبر ایک عظیم دینی عمل ہے۔ مگر دنیا میں صبر کی روش پر وہی لوگ قائم رہ سکتے ہیں جو اللہ رب العلمین کی ذات پر بے پناہ بھروسہ رکھتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader