اسلامی طریقہ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی طریقہ قرآن میں جن گھریلو مسائل کا ذکر ہے، ان میں سے ایک نشوز ہے۔ نشوز کا لفظی مطلب ہے سر اٹھانا۔ نشوز کا اظہار مرد اور عورت دونوں کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اس فعل کا ظہور مرد کے مقابلہ میں عورت کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب شوہر کی نافرمانی ہوتا ہے۔ اور اگر وہ عورت کے مقابلہ میں مرد کی طرف سے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ شوہر اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کر رہا ہے۔ نشوز کی صورت پیش آنے کے بعد عورت اور مرد کے باہمی تعلقات بگڑ جاتے ہیں۔ جب ایسا ہو جائے تو کیا کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ہدایت دی گئی کہ : سب سے پہلے دونوں آپس میں بات چیت کے ذریعہ اصلاح کی کوشش کریں (النساء، 128:4) اگر آپس کی بات چیت سے تعلقات درست نہ ہوں تو دوسرے مرحلہ میں یہ کرنا چاہیے کہ دونوں خاندانوں سے ایک ایک شخص کو بطور حکم مقرر کیا جائے۔ دونوں خیر خواہی کے انداز میں کوشش کر کے معاملہ کو داخلی سطح پر طے کرنے کی کوشش کریں (النساء، 4:35) اگر یہ دوسری کوشش بھی ناکام ہو جائے تو تیسرے مرحلہ میں معاملہ کو بیرونی عدالتی ادارہ (قضا) کے سپرد کر دیا جائے۔ اس تعلیم کا براہ راست تعلق شوہر اور بیوی کے نزاع سے ہے۔ مگر اس سے شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب دو انسان یا دو گروہ کے درمیان کوئی جھگڑے کی صورت پیدا ہو تو اس وقت جھگڑے کو حل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس طریق عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاملہ کو محدود دائرہ میں رکھ کر اسے حل کرنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader