دینِ انسانیت
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
کی کوشش کی جائے۔ اولاً یہ کوشش ہونی چاہیے کہ جن چند آدمیوں کے درمیان مسئلہ پیدا ہوا ہے، انھیں کے درمیان اس کو باقی رکھا جائے اور اس کے دائرہ کو آخری حد تک محدود رکھتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر بالفرض ساری تدبیروں کے باوجود یہ ابتدائی کوشش ناکام ہو جائے تب بھی معاملہ کو پھیلایا نہ جائے۔ اس کے بعد بھی صرف قریبی افراد کو شریک کرکے اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر قریبی اور متعلق افراد کی کوشش بھی اس کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہو تو اس وقت جائز ہے کہ اس کو عدالت یا اور کسی خارجی ادارہ کے سپرد کیا جائے۔ رسول خدا کا اسوہ قدیم عرب میں کعب بن زہیر ایک شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو کعب آپ کے مخالف ہو گئے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشعار لکھتے اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلاتے۔ ان اشعار میں نہایت برے انداز میں آپ کی ہجو اور تنقید ہوتی۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو کعب بن زہیر کو اپنے لیے زمین تنگ دکھائی دینے لگی۔ ان کے بھائی بجیر اسلام قبول کر چکے تھے۔ انھوں نے کعب سے کہا کہ مدینہ جاؤ اور اسلام قبول کر لو۔ اب اسی میں تمہارے لیے بھلائی ہے۔ کعب بن مالک کے خط کا ایک فقرہ یہ تھا کہ اگر تم اپنی جان بچانا چاہتے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حاضر ہو جاؤ۔ کیوں کہ وہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جو ان کے پاس تائب ہو کر آئے۔۔ فَإِنْ كَانَتْ لَكَ فِي نَفْسِكَ حَاجَةٌ، فَطِرْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَإِنَّهُ لَا يُقْتَلُ أَحَدًا جَاءَهُ تَائِبًا ۔ چنانچہ کعب بن زہیر مدینہ آئے۔ اگلے دن صبح سویرے وہ مسجد نبوی پہنچے اور جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader