عافیت کی زندگی
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
تَأْخُذْ مِنْ مَالِهِمْ، وَتَقْضِي لَهُمْ حُقُوقَهُمْ وَلَا تُطَالِبْهُمْ بِحُقُوقِكَ، وَتَصْبِرَ عَلَى أَذَاهُمْ وَلَا تُؤْذِيَهُمْ۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد 11، صفحہ 487)۔ حاتم اصم جب امام احمد کے پاس آئے تو امام احمد نے ان سے کہا کہ مجھے بتائیے کہ لوگوں سے محفوظ کیسے رہا جائے۔ حاتم اصم نے کہا کہ تین چیزوں کے ذریعہ سے۔ ان کو اپنا مال دیں مگر خود ان کا مال نہ لیں۔ لوگوں کے حقوق ادا کریں مگر اپنے حقوق ان سے نہ مانگیں۔ لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کریں اور خود ان کو ایذا نہ پہنچائیں۔ ان تینوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ وہ آپ سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ اس کے بعد آپ بھی ان سے پوری طرح محفوظ ہو جائیں گے۔ لوگوں کو یہ احساس تین تدبیروں کے ذریعہ دلایا جا سکتا ہے۔ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے، اس سے اپنے آپ کو مستغنی بنا لیں۔ مگر آپ کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے آپ لوگوں کو حسب توفیق ان کا حصہ پہنچاتے رہیں۔ آپ لوگوں سے لینے والے نہ بنیں، اس کے بجائے آپ لوگوں کو دینے والے بن جائیں۔ لوگوں کا جو حق آپ کے اوپر ہو اس کی ادائیگی میں آپ کوئی کوتاہی نہ کریں۔ مگر دوسروں کے اوپر آپ کا جو حق آتا ہو، اس کو دوسروں سے وصول کرنے کی کبھی کوئی مہم نہ چلائیں۔ معاشرتی زندگی میں بار بار ایسا ہوگا کہ دوسروں کی طرف سے آپ کو تکلیف پہنچے گی۔ اس طرح کے مواقع پر آپ یک طرفہ صبر و تحمل کی پالیسی کو اختیار کر لیں، آپ صرف اتناہی نہ کریں کہ دوسروں کو آپ ایذا نہ پہنچائیں، بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کا رویہ یہ بن جائے کہ دوسروں کی ایذاؤں پر آپ صبر کر لیں، آپ لوگوں سے بدلہ لیے بغیر انھیں معاف کر دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader