Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو انھوں نے آگے بڑھ کر آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پہچانتے نہ تھے۔ کعب نے آپ سے کہا کہ میں کعب بن زہیر ہوں ۔ میں تائب ہو کر اور مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ آپ سے امان مانگتا ہوں۔ کیا اس کو آپ میری طرف سے قبول کریں گے اور امان دے دیں گے۔ یہ سن کر مدینہ کا ایک مسلمان صف سے اٹھا اور جھپٹ کر کعب تک پہنچا۔ اور کہا کہ اے خدا کے رسول اس دشمنِ خدا کو میرے حوالے کیجیے تا کہ میں تلوار سے اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس کو چھوڑ دو۔ کیونکہ وہ توبہ کر کے اور اپنی حرکت سے باز ہو کر آیا ہے۔ دَعْهُ عَنْكَ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ تَائِبًا، نَازِعًا عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 503-501)۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔ اس سے ناقدین اور مخالفین کے بارے میں اسلام کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی تخریبی ہو اور وہ کتنا ہی تنقید میں کرتا رہا ہو۔ اگر وہ اپنے فعل کو چھوڑ دے اور تائب ہو کر امن کی درخواست کرے تو اس کو ضرور امن دیا جائے گا۔ ماضی کے تخریبی عمل کی بنیاد پر اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔ اس کی توبہ ہی اس کے لیے سزا کا بدل بن جائے گی۔ عافیت کی زندگی لَمَّا قَدِمَ حَاتِمٌ الْأَصَمُّ إِلَى الْإِمَامِ أَحْمَدَ، قَالَ لَهُ الْإِمَامُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ السَّلَامَةُ مِنَ النَّاسِ؟ فَقَالَ حَاتِمٌ: بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: تُعْطِيهِمْ مِنْ مَالِكَ وَلَا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page