دینِ انسانیت
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
نرم نہیں پڑتا ، خواہ اس کی بات لوہے سے زیادہ سخت کیوں نہ ہو : فَإِنِّيْ لَا أُلَيْنُ لِقَوْلِ شُدَّى وَلَوْ كَانَتْ أَشَدَّ منَ الحَدِيدِ (لسان العرب، جلد 3، صفحه 235) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ آیت میں اشداء کا لفظ داخلی معنی میں ہے نہ کہ خارجی معنی میں۔ یعنی اس میں اہل ایمان کی یہ داخلی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گہرے یقین کی بنا پر ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ خارجی ترغیبات کا اثر قبول نہ کر سکیں۔ غیر خدا پرست اشخاص یا غیر خدا پرستانہ تہذیب کا سیلاب بھی اگر ان کے اوپر سے گزر جائے تو وہ پتھر اور لوہے کی طرح اس کا اثر قبول کرنے سے محفوظ رہیں گے۔ حق سے متاثر ہونے میں وہ انتہائی نرم ہوتے ہیں اور ناحق سے متاثر ہونے میں انتہائی سخت۔ صبر کی اہمیت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر پر اللہ تعالی نے بے حساب اجر رکھا ہے (39:10)۔ صبر اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ ہے (46:35)۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور واسع عطیہ نہیں دیا گیا (مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَّأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1053)۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں صبر کے اوپر رکھ دی ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف چند آیتوں کا حوالہ دیا جاتا ہے : صبر پر جنت (الدھر، 76:12)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader