قلبی عمل
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس غم میں کہ ان کے پاس کوئی چیز نہیں جس کو وہ خرچ کریں۔ (التوبہ) محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ یہ سات افراد تھے جو انصار کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا، وَلَا نِلْتُمْ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا، إِلَّا وَقَدْ شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ" قَالُوا: وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: نَعَمْ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 336)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم نے مدینہ میں ایسے لوگ چھوڑے ہیں کہ تم نے جو بھی خرچ کیا تم نے جو وادی بھی طے کی، اور تم نے دشمن پر جو کامیابی بھی حاصل کی، ان سب کے اجر میں وہ شریک تھے صحابہ نے کہا کہ اگر چہ وہ مدینہ میں تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں، ان کو عذر نے روک دیا۔ آدمی نہ کر کے بھی کرنے والوں کے اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔ بظاہر کچھ نہ پا کر بھی اس کا شمار ان لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنھوں نے بہت کچھ پایا۔ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس کام میں ہم عملاً شریک نہ ہو سکے اس میں ہم جذبہ کے اعتبار سے شریک ہو جائیں۔ کسی کو اپنے سے بڑا دیکھیں تو اس پر حسد کرنے کے بجائے اس کی بڑائی کا اعتراف کر لیں۔ کسی کے پاس ہم سے زیادہ مال ہو تو ہم دل سے یہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرے اور اس کو حقوق کی ادائیگی کی توفیق دے۔ کسی کو ”مقرر“ کے اسٹیج پر جگہ مل جائے اور ہم صرف ”سامع“ بنے ہوئے ہوں تو ہم اس کے لیے دعا کریں کہ خدایا تو اس کو توفیق دے کہ اس کی زبان سے جو کچھ نکلے حق نکلے اس کی زبان ناحق بولنے سے محفوظ رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader