Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے حد پر عمل کرنا۔ دوسرا ہے حد کے باہر جا کر عمل کرنا۔ ایک شخص آپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور آپ بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یہ معمول کا کردار ہے۔ اس میں صبر و برداشت کا مرحلہ پیش نہیں آتا۔ یا آپ نے ایسے دین کو اختیار کر رکھا ہے جس میں آپ کے سب معاملات درست رہیں تو یہ گویا ایک حد پر رہ کر دین دار بننا ہے۔ عمل کی دوسری قسم یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں مطلوب دینی رویہ پر قائم رہے، خواہ صورت حال اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ یہ صابرانہ عمل ہے۔ یعنی دوسرا آدمی آپ کے ساتھ برا سلوک کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں ۔ دوسرا آپ کو اشتعال دلائے تب بھی آپ اس سے معتدل انداز میں کلام کریں۔ حق پر قائم رہنے میں بظاہر آپ کا معاملہ بگڑتا ہو تب بھی آپ حق اور انصاف سے نہ ہٹیں، بظاہر بے اصولی اختیار کرنے میں فائدہ نظر آتا ہو تب بھی آپ پوری طرح با اصول بنے رہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں بے حساب انعام دیا جائے گا۔ کیوں کہ انھوں نے صبر کی قیمت پر دینی عمل کیا۔ قلبی عمل غزوہ تبوک میں کچھ لوگ عذر کی بنا پر شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کی بابت قرآن میں آیا ہے کہ ضعيفوں پر اور مریضوں پر اور محتاجوں پر کچھ گناہ نہیں جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں۔ نیکی والوں پر کوئی الزام نہیں۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (9:91)۔ اور نہ ان پر کوئی گناہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تاکہ تم ان کو سواری دو، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو سواری کے لیے دوں، وہ واپس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page