Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر کام میں ایک چیز ہوتی ہے محنت، اور دوسری چیز ہے نتیجہ محنت۔ توکل کا تعلق محنت سے نہیں ہے بلکہ نتیجہ محنت سے ہے۔ مومن وہ ہے کہ جب وہ کوئی کام کرنے کے لیے اٹھے تو پورے عزم کے ساتھ اس کو انجام دے۔ وہ اپنی پوری طاقت اس میں لگادے۔ مگر نتیجہ کے معاملہ کو وہ اللہ کے اوپر چھوڑ دے۔ آدمی اگر محنت کو خدا پر چھوڑے گا تو اس سے کاہلی اور بے عملی پیدا ہوگی۔ اور اگر وہ نتیجہ میں توکل کا طریقہ اختیار نہ کرے گا تو وہ مایوسی اور دل شکستگی کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔ برتر روش قرآن کی تقریباً دو سو آیتیں براہ راست طور پر صبر سے متعلق ہیں۔ اور بقیہ آیتیں بالواسطہ طور پر صبر سے متعلق۔ گویا قرآن کی تمام تعلیمات صبر پر مبنی ہیں۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ قرآن صبر کی کتاب ہے۔ صبر کی براہ راست آیتوں کا معاملہ واضح ہے۔ مثلاً: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (2:45) وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ (31:17) وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103:3) وَدَعْ أَذَاهُمْ (33:48)۔ یہ آیتیں وہ ہیں جن میں براہ راست الفاظ میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر دوسری بیشتر آیتوں کا بھی صبر سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:2)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس کا شکر اور تعریف کریں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کوئی بھی آدمی ناخوشگوار تجربات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قرآن کے مطابق انسان کو کبد (90:4) (مشقت) میں پیدا کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں خوشیوں اور مسرتوں کی زندگی بناسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page