Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر حقیقی معنوں میں کوئی آدمی شکر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے۔ اس کا واحد راز صبر ہے۔ یعنی آدمی جب دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے گا، اسی وقت اس کے لیے ممکن ہوگا کہ سچا کلمۂ شکر اس کی زبان پر جاری ہو سکے۔ اسی لیے قرآن میں شکر کے ساتھ صبر کو وابستہ کیا گیا ہے (لقمان، 31: 31)۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مسائل کے مقابلہ میں تسخیری انداز کا برتر حل دریافت کر سکے۔ آدمی جب فریق ثانی کے مقابلہ میں بھڑک جائے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سوچ کر کوئی گہرا جواب دے یا کوئی دور رس منصوبہ بنا سکے۔ مگر جب وہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ فوری اقدام کے بجائے سوچا سمجھا ہوا اقدام کرے۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ فوری اقدام کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر اقدام کرنے والا ہمیشہ کامیاب۔ صبر ہر قسم کے مسائل کا برتر حل (سپیریرسولیوشن) ہے۔ اعتدال کا طریقہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر عمل بیچ کا عمل ہے خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَطُهَا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 6229)۔ حضرت علیؓ کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے کہ تم درمیانی طریقہ اختیار کرو عَلَيْكُمْ بِالنَّمْطِ الْأَوْسَطِ (تفسیر قرطبی، جلد 2، صفحہ 154)۔ بیچ کے عمل سے مراد اعتدال کا عمل ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی اس آیت میں ہے کہ خرچ کرنے کے معاملہ میں تم نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page