Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

آخذ ثابت ہوئے اور مجھ کو اچھا آخذ بننے کے لیے کہہ رہے ہو۔ آپ نے اس کو معاف کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کو ملامت کرتے یا اس کو سزا دیتے تو اس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑکتا۔ مگر جب آپ نے اس کو سرزنش کے بغیر چھوڑ دیا تو اس کا ضمیر جاگ اٹھا۔ وہ آپ کی شرافت اور آپ کے اخلاقی کمال کا مبلغ بن گیا۔ اس نے قبیلہ میں واپس جا کر یہ کہنا شروع کیا: جِئتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 4، صفحہ 271-270)۔ میں اس شخص کے یہاں سے واپس آ رہا ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ انتقام کا طریقہ صرف مسئلہ کو بڑھاتا ہے۔ جب کہ معافی کا طریقہ مسئلہ کو آخری حد تک ختم کر دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ وہ معاف کرنے والے کی عظمت کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جس کے بعد جانی دشمن بھی وفادار دوست بن جائے۔ آگ کا ٹکڑا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7169؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر (1713)۔ یعنی، حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے مقدمات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page