Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

توفیق کو دیکھا۔ اس کو نظر آیا کہ خدا اس کا منتظر ہے کہ دعا کرنے والے قبیلہ کے حق میں دعا کریں اور وہ اپنے بندوں کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دے۔ تجربہ نے بتایا کہ عام آدمی کا اندازہ غلط تھا اور پیغمبر کا اندازہ نہایت صحیح اور درست۔ یہ واقعہ پیغمبر خدا کی ایک سنت کو بتاتا ہے— ناامیدی کے حالات میں بھی امید کے اوپر قائم رہنا۔ اخلاق کا کرشمہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں قصۂ غورث بن الحارث کے عنوان کے تحت ایک واقعہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غزوہ ذات الرقاع (4ھ) سے واپس لوٹ رہے تھے۔ ایک جگہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا، رسول اللہ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔ اتنے میں دشمن قوم کا ایک آدمی غورث بن الحارث آیا۔ آپ کی تلوار درخت کی ایک شاخ سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي یا محمد۔ یعنی، اے محمد، آپ کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس نے کئی بار اپنا جملہ کہا۔ ہر بار آپ نے جواب دیا کہ اللہ۔ آپ کے اس جواب سے اس کے اوپر ہیبت طاری ہوئی اور اس نے تلوار زمین پر رکھ دی۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھالی اور اس سے وہی جملہ فرمایا کہ تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا۔ اس نے کہا: کن خیر آخذ (بہتر پکڑنے والے بنو) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملامت نہیں کی۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خود تو برے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page