Urdu book · دینِ انسانیت

والدین کی ذمہ داری

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

والدین کی ذمہ داری عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: مَا مِنْ مَوْلُوْدِ إِلاَّ یُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ یُہَوِّدَانِهِ، وَیُنَصِّرَانِهِ، أَوْ یُمَجِّسَانِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 7181)۔ یعنی، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا ہونے والافطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں یا اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف مذہبی معنوں میں یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنانا نہیں ہے ۔ یہ تو بنانے کی آخری صورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر وہ بگاڑ شامل ہے جو والدین کے ذریعہ ان کی اولاد میں پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں عمومی الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: ”مُکُلُّ مَوْلُوْدِ یُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّی یُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ، إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (مسند احمد، حدیث نمبر 14805)۔ یعنی، حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر پیدا ہونے والافطرت (صحیح) پر پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بولنے لگے۔ پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو وہ شکر گزار یا ناشکر بن جاتا ہے۔ بچے پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگتے۔ وہ کچھ عرصہ کے بعد بولتے ہیں۔ بولنے سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page