Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلے ان کا ربط ان کی پیدائشی فطرت سے ہوتا ہے، بولنے کے بعد ان کا ربط ان کے قریبی ماحول سے ہو جاتا ہے جو کچھ ملے اس پر اللہ کا شکر کرنا ہے یا اس کو کسی اور کا عطیہ سمجھنا ہے، اس کا ابتدائی سبق انھیں اپنے ماں باپ سے ملتا ہے ۔ کسی کو چھوٹا دیکھ کر اس کو حقیر سمجھنا یا کسی کو بڑا دیکھ کر جل اٹھنا، یہ بھی پہلی باراں کو اپنے والدین ہی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس طرح والدین یا تو اپنے بچوں کو نیک عمل بناتے ہیں یا ان کو بدعمل بنا دیتے ہیں ۔ بچہ کا گھر اس کا سب سے پہلا مدرسہ ہے اور بچہ کے والدین اس کے سب سے پہلے معلم ۔ قرآنی طریقہ موجودہ دنیا میں آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ اور جب وہ امتحان کی حالت میں ہے تو اس کو آزادی بھی دی گئی ہے۔ اب کچھ لوگ آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور کچھ لوگ آزادی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ آزادی کے غلط استعمال ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ دنیا میں فساد ہوتا ہے۔ باہمی مقابلے پیش آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف عداوتیں جاگتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں تلخی اور شکایت کے لمحات پیش آتے ہیں۔ یہ سب عین قانون قدرت کے تحت ہوتا ہے۔ اور جو چیز خود قدرت کے منصوبہ کے تحت پیش آئے اس کو ختم کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اب اس کا حل کیا ہے۔ قرآن میں واضح طور پر اس کا حل بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ لوگ ردعمل کا طریقہ نہ اختیار کریں بلکہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے حکمت اور تدبیر کے ساتھ معاملہ کریں: جہالت کے مقابلہ میں اعراض (الاعراف، 7:199)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page