Urdu book · دینِ انسانیت

تنگی میں آسانی

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

چلے جس کو تنگ راستہ کہا جاتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے اس کا نام پوچھا۔ کہا گیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ آسان راستہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ تنگ ہے مگر بند تو نہیں۔ بظاہر اگرچہ یہ راستہ تنگ دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اگر ہمت اور احتیاط سے کام لیں تو یقیناً ہم اس سے گزر سکتے ہیں۔ پھر تنگی کے باوجود اگر وہ ہمارے لیے رکاوٹ نہیں تو ہم اس کو تنگ کیوں کہیں۔ کیوں نہ ہم اس کو آسان کہیں ۔ کیوں کہ اصل مقصد گزرنا ہے اور وہ اب بھی ہمیں حاصل ہے۔ یہ واقعہ اس طرح کے معاملات میں مومن کے مزاج کو بتاتا ہے۔ مومن چیزوں کو ان کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں دیکھتا بلکہ چیزوں کو ان کے باطن کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔ مومن معاملات کے تاریک پہلو کو نظر انداز کر دیتا ہے اور صرف اس کے روشن پہلو پر اپنی تمام توجہ لگا دیتا ہے۔ مومن کیا ہے کو نہیں دیکھتا، وہ ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا ہو سکتا ہے۔ مومن ناموافق پہلو کو اہمیت نہیں دیتا۔ وہ صرف موافق پہلو پر اپنی ساری نظریں جما دیتا ہے۔ مومن منفی سوچ سے مکمل طور پر پاک ہوتا ہے۔ اس کی سوچ تمام تر مثبت سوچ ہوتی ہے۔ مومن کی شخصیت کو بتانے کے لیے اگر نفسیاتی اصطلاح استعمال کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مومن ایک مثبت مفکر (positive thinker) ہوتا ہے۔ یعنی مثبت ذہن رکھنے والا انسان۔ مومن کی یہ صفت اس کو بے پناہ بنا دیتی ہے۔ اس کے لیے رکاوٹیں بھی زینہ بن جاتی ہیں۔ تنگ راستہ بھی اس کے لیے کشادہ راستہ بن جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page