Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

بندے کا معاملہ گویا دندان دار پہیہ (cog wheel) کا معاملہ ہے۔ ایک پہیہ خدا کا ہے اور دوسرا پہیہ انسان کا۔ جب دونوں کے دندانے ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں، اس کے بعد زندگی کی مشین چل پڑتی ہے۔ انسان اگر ایسا کرے کہ خدا کے پہیہ سے الگ ہو کر اپنا پہیہ چلانا چاہے تو بظاہر حرکت کے باوجود وہ بے فائدہ ہو گا۔ کیوں کہ پوری مشین کے چلنے کے لیے ضروری تھا کہ خدا کے پہیہ کا دندانہ بھی انسان کے پہیہ کے ساتھ شامل ہو۔ ان شاء اللہ کا کلمہ، باعتبارِ حقیقت، ایک دعا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے کام کا آغاز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ وہ انسان کے کاگ میں اپنا کاگ ملا دے تاکہ زندگی کی مشین چل پڑے اور اپنے مطلوبہ انجام تک پہو نچے۔ ان شاء اللہ کہنا گویا زندگی کے سفر میں مالکِ کائنات کو اپنے ساتھ لینا ہے۔ اور جس آدمی کا یہ حال ہو کہ خود مالکِ کائنات اس کا ہم سفر ہو جائے اس کو منزل تک پہو نچنے سے کون روک سکتا ہے۔ تنگی میں آسانی فتح مکہ کا واقعہ 8 ھ میں پیش آیا۔ اس کے بعد آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مکہ سے طائف کا سفر فرمایا۔ اس سفر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: ثُمَّ سَلَكَ فِي طَرِيقٍ يُقَالُ لَهَا: الضَّيِّقَةُ. فَلَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا، فَقَالَ: ”مَا اسْمُ هَذِهِ الطَّرِيقِ؟“ فَقِيلَ: الضَّيِّقَةُ. فَقَالَ: ”بَلْ هِيَ الْيُسْرَىٰ“ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 482)۔ پھر آپ ایک راستہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page