Urdu book · دینِ انسانیت

صفت مومن

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

صفت مومن قرآن میں مومن کی جو صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک صفت تو سم (الحجر، 15:75) ہے۔ تو سم کا مطلب ہے استدلال بالعلاقات (تفسیر القرطبی، جلد 10، صفحہ 43)۔ یعنی ظاہری نشانیوں سے باطنی حقیقتوں کو جان لینا۔ مثلاً عربی میں کہا جاتا ہے: تَوَسَّمْتُ فِيهِ الخَیْرَ ۔ یعنی میں نے اس شخص کے ظاہری قرائن سے معلوم کر لیا کہ اس کے اندر خیر کی صفت پائی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت اس طرح آتی ہے: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم: اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ، ثُمَّ قَرَأَ؛ اِنَّ فِي ذَلِكَ لَاٰيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِيْنَ (15:75)؛ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو۔ کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اس میں نشانیاں ہیں تو سم کی صفت رکھنے والوں کے لیے۔ دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو چیزوں کو ان کے ظاہر اور خارجی پہلو سے لیتے ہیں۔ ایسے لوگ معاملات کی گہرائی کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ صرف ظاہر بینی کی حد تک جانتے ہیں اور محض سطحی رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نادانی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہ ہو۔ دوسرا انسان وہ ہے جو ظاہری سطح سے گزر کر گہرائی تک پہنچتا ہے۔ جو خارجی مظاہر سے داخلی حقیقتوں کا پتہ لگاتا ہے۔ جو دور رس پہلوؤں کو دھیان میں رکھ کر اپنا عملی منصوبہ بناتا ہے۔ یہی دوسرا انسان متوسم ہے، اور جو متوسم ہو اس کی شخصیت اتنی بے پناہ ہو جاتی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page