Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن ایک متوسم انسان ہوتا ہے۔ وہ ظواہر سے گزر کر حقائق کو دیکھ لیتا ہے۔ یہی اللہ کے نور سے دیکھنا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی نگاہ ظاہر کو پار کر کے باطن تک کا احاطہ کر لیتی ہے۔ ایسے خدائی انسان کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ ثبت طریقہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ اس لیے تم برائی کا بدلہ اچھائی کے ذریعہ دو: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (41:34)۔ یہ بات قرآن میں مختلف الفاظ میں بار بار کہی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو ہمیشہ مثبت ردعمل کا ثبوت دینا چاہیے۔ انھیں ہر حال میں منفی ردعمل سے بچنا چاہیے۔ ان کا سلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں بھی بہتر ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اپنی طرف سے برے سلوک کا مظاہرہ کرے تب بھی خدا پرستوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس وقت بھی وہ با اصول انسان کا ثبوت دیں۔ برائی کے جواب میں بھی وہ اپنے اچھے سلوک پر قائم رہیں۔ مذکورہ آیت کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: أَمَرَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ عِنْدَ الإِسَاءَةِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 181)۔ یعنی، اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب انھیں غصہ آجاۓ تو وہ صبر و برداشت سے کام لیں۔ ان کے ساتھ جب کوئی شخص جہالت کرے تو وہ بردباری کا طریقہ اختیار کریں۔ اور جب ان کے ساتھ کوئی شخص برا سلوک کرے تو وہ اسے معاف کر دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page