دینِ انسانیت
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ، أَوْ قَالَ: لِأَخِيهِ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 45)۔ یعنی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے پڑوسی (یا اپنے بھائی) کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی آدمی خواہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا ہو، ایک طبقہ سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے طبقہ سے، حتّی کہ معذور ہو یا غیر معذور، ہر حال میں وہ یقینی طور پر یہ جانتا ہے کہ کیا چیز مجھے پسند آتی ہے اور کیا چیز مجھے پسند نہیں آتی۔ اب ہر آدمی سادہ طور پر اپنے لیے یہ اصول بنالے کہ جو سلوک اس کو پسند آتا ہے وہی سلوک وہ دوسروں کے ساتھ کرے۔ اور جو سلوک اس کو پسند نہیں آتا اس سے وہ خود بھی پرہیز کرنے لگے۔ یہ ایک ایسا جامع اصول ہے جو عورت اور مرد، فرد اور قوم، ملکی اور غیر ملکی ہر ایک کے لیے کارآمد ہے۔ لوگ اگر اس اصول کو اختیار کر لیں تو خاندانی زندگی بھی بہتر ہو جائے اور سماجی زندگی بھی۔ قومی زندگی بھی خوش اسلوبی کے ساتھ چلنے لگے اور بین الاقوامی زندگی بھی۔ یہ گویا انسانی اخلاقیات کے لیے ایک شاہ کلید ہے۔ یہ ایک ہی کنجی تمام تالوں کو کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ جو آدمی اپنے اور غیر میں فرق نہ کرے وہ ایک با اصول انسان ہوگا۔ اس کے اندر ایک بے تضاد شخصیت پرورش پائے گی۔ اس کی یہ صفت اس کو کامل انسان بنا دے گی۔ بے مسئلہ مومن ایک بے مسئلہ انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہر ماحول میں مسٹر نو پرابلم بن کر رہتا ہے۔ اس معاملہ میں اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ معمولی درجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader