Urdu book · دینِ انسانیت

بے مسئلہ

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بھی کسی کے لیے مسئلہ پیدا کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ حال تھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کا کوڑا زمین پر گر پڑتا تو وہ گھوڑے سے اتر کر اپنا کوڑا اٹھاتا تھا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1642)۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سب سے اچھا مسلم وہ ہے جس کے شر سے لوگ مامون رہیں: وَيُؤْمِنُ شَرُّهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2263)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے: يَتَّقِي اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2786)۔ البخاری (کتاب الادب) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلم پر صدقہ ہے۔ یعنی اس کو دینے والا بننا چاہیے۔ پوچھا گیا کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ محنت کر کے کمائے اور پھر اس میں سے دے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ زبان سے اچھا کلمہ کہے۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو آپ نے فرمایا: فَلْيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ - ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 5676)۔ یعنی، وہ اپنے شر کو دوسروں سے روکے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک عطیہ ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو مجاہد بنے اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال کو خرچ کرے۔ اور اس کے بعد وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے بچے ہوئے ہوں: قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2485)۔ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی تعلیمات آئی ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج میں رہنے والے ایک مسلمان کے لیے کردار کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ اس کے بعد اسلامی کردار کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ وہ پوری طرح بے ضرر بنا ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page