اعتراف
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
بنیاد ہے۔ جس کو شریعت کی زبان میں ایمان کہا جاتا ہے، اسی کا نام فطرت کی زبان میں اعتراف ہے۔ اعتراف کی فطرت جب ایمان میں ڈھل جائے تو وہیں سے دینی یا اسلامی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اعتراف ہی کی عملی صورت کا نام عبادت خداوندی ہے۔ اعتراف کا مادہ ہی آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پیغمبر کی پیغمبری کو مانے۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پیغمبر اس کے لیے قابل اطاعت نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اسے اپنی پوری زندگی میں پیغمبر کے حکم کی پیروی کرنا چاہیے۔ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھنا اور حدیث کو پیغمبر خدا کے کلام کا درجہ دینا بھی اسی جذبۂ اعتراف کی بنا پر ہوتا ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کا جذبہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی اس حیثیت کو تسلیم کرے جو فی الواقع اسے حاصل ہے۔ اسی طرح انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا معاملہ بھی اعتراف سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دراصل جذبۂ اعتراف ہی ہے جو آدمی سے یہ کہتا ہے کہ دوسروں کا حق جو تمہارے اوپر آتا ہے اس کو تم پوری طرح ادا کرو۔ احترام، شفقت، امانت، صبر، شریفانہ اخلاق، وعدہ پورا کرنا، لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا، اس قسم کی جتنی بھی اعلیٰ انسانی خصوصیات ہیں، ان سب کا سرچشمہ اعتراف ہے۔ اسی طرح تمام بری صفات کا رشتہ بے اعترافی سے بندھا ہوا ہے۔ ایمان پر راضی نہ ہونا بے اعترافی ہے۔ کسی انسان کے ساتھ حسد اسی لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اس کے فضل کا اعتراف کرنا نہیں چاہتا۔ آدمی خیانت اسی لیے کرتا ہے کہ وہ نہیں مانتا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ دوسرے کی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader