دینِ انسانیت
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ حدیث کے متن پر گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہی آدمی کے اوپر اس کے پورے معنی کھل سکتے ہیں۔ اس حدیث سے حقوقِ والدین کے مسئلہ کے علاوہ مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان خاتمہ جنگ کا معاہدہ ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مکہ کے مشرکین مدینہ آنے لگے اور مدینہ کے مسلمان مکہ جانے لگے۔ عقل عام یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس آمدورفت میں صرف ”صلہ رحمی“ کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ شرک اور توحید پر گفتگو ہونے لگی۔ آبائی مذہب اور پیغمبرانہ مذہب کا تقابل کیا جانے لگا۔ توہم پرستانہ مذہب اور الہامی مذہب کا فرق لوگوں پر واضح ہونے لگا۔ اس طرح یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کی تدبیر نے جنگی ماحول کو دعوتی ماحول میں تبدیل کر دیا۔ مکہ اور مدینہ میں جہاں اس سے پہلے تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی، وہ دعوت حق کی آوازوں سے گونجنے لگے، اور جب ایسا ہو جائے تو اسلام کی فتح اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنا کہ تاریکیوں کی دنیا میں سورج کے طلوع ہونے سے سورج کا فتح یاب ہونا۔ اعتراف سب سے بڑا عمل اعتراف ہے۔ اعتراف کی حیثیت جڑ والی صفت کی ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ ہو، اس کے اندر دوسری تمام خوبیاں بھی موجود ہوں گی۔ جو آدمی اعتراف سے خالی ہو، وہ یقینی طور پر تمام خوبیوں سے بھی خالی ہوگا۔ یہ اعتراف کا مادہ ہی ہے جو کسی آدمی کو ایمان کی طرف لے جاتا ہے جو کہ دین کی اصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader