جنت کے کنارے
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کے کنارے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم: إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الجَنَّةِ فَارْتَعُوا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الجَنَّةِ؟ قَالَ: المَسَاجِدُ، قُلْتُ: وَمَا الرَّْتَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3509)۔ یعنی، حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو اس سے چر لیا کرو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، جنت کے باغ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مسجدیں اور ذکر کے حلقے۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، چرنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ اور الحمد للہ اور لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر۔ آدمی جب دنیا میں چلتا پھرتا ہے تو اس کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جو اس کے خدائی احساسات کو جگاتے ہیں۔ کبھی مسجد اس کو خدا کی معبودیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کبھی ذکر خداوندی کی مجلسیں اس کو خدا کی صفات کی یاد دلاتی ہیں۔ کبھی کائنات کی نشانیاں اس کو خدا کی عظمت و جلال کی جھلک دکھاتی ہیں۔ اس قسم کے تجربات آدمی کو جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے کنارے پہنچا دیتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر ان احساسات کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو اس کو جنت میں پہنچانے والے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے استفادہ کرے اور ان سے جنتی غذا لے کر اپنے آپ کو جنت میں بسنے کے قابل بنا لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader