Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

ان تجربات کے درمیان آدمی کے اوپر اتنا شدید تاثر طاری ہونا چاہیے کہ اس کی روح حقیقت اعلیٰ سے مربوط ہو جائے۔ اس کے ابلتے ہوئے احساسات ان الفاظ میں ڈھل جائیں کہ خدایا، تو پاک ہے۔ سارا شکر اور ساری تعریف تیرے لیے ہے۔ تو ہی معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ساری بڑائی صرف تیرے لیے ہے، تیرے سوا کسی کو بھی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔ دنیا میں آدمی کو اس طرح رہنا ہے کہ وہ یہاں کے مناظر میں جنت کی جھلک دیکھنے لگے۔ اس کے بعد ہی وہ جنت کے باغوں میں چرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے۔ ذکر وفکر قَالَ الشَّيْخُ أَبُو سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيُّ (وفات 215ھ) : إِنِّي لَأَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِي، فَمَا يَقَعُ بَصَرِي عَلَى شَيْءٍ إِلَّا رَأَيْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ فِيهِ نِعْمَةً، وَلِي فِيهِ عِبْرَةٌ (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 184) - شیخ ابو سلیمان دارانی نے کہا کہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو میرا حال یہ ہوتا ہے کہ جس چیز پر بھی میری نظر پڑتی ہے اس میں مجھے اللہ کی نعمت دکھائی دیتی ہے اور اس میں میرے لیے عبرت ہوتی ہے۔ عَنِ الحَسَنِ البَصْرِيِّ (21-110) أَنَّهُ قَالَ: تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ (حليۃ الاولیاء لابن نعیم، جلد 6، صفحہ 271) - حسن بصری نے کہا کہ ایک گھڑی کے لیے اللہ میں سوچنا، ساری رات نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ قال سفيان بن عيينه (107-198ھ) : الفِكْرَةُ نُورٌ يَدْخُلُ القَلْبَ ، وَكَانَ يَقُولُ: إِذَا المَرْءُ كَانَتْ لَهُ فِكْرَةٌ، فَفِي كُلٍّ شَيْءٍ لَهُ عِبْرَةٌ (حلية الاولياء لابن نعیم،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page