دینِ انسانیت
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ حقائق کی دنیا ایک لامودود دنیا ہے۔ مگر ایک شخص کا تنہا ذہن صرف محدود طور پر سوچ پاتا ہے۔ اس لیے اگر جبر اور تقلید کا ماحول ہو تو ہر آدمی صرف محدود واقفیت کا حامل ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی آزادی حاصل ہو تو لوگوں کے درمیان خیالات کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔ اب ہر آدمی دوسرے سے سیکھنا شروع کر دے گا۔ اس طرح مجموعی طور پر لوگ بہت زیادہ باتوں کو جان لیں گے۔ اس کے برعکس جہاں ایسا ماحول ہو جس میں تمام لوگ اپنے ہی دائرہ میں سوچیں تو ایسے ماحول میں لوگوں کی مجموعی واقفیت بھی بہت کم ہوگی۔ جب لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی کھلی آزادی ہوگی تو لازماً اختلاف رائے پیدا ہوگا۔ لوگ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر پر تنقید کریں گے۔ یہ تنقیدی عمل ذہنی ارتقا کا لازمی جزء ہے ۔ تنقید کا خاتمہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذہنی ارتقا کا خاتمہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے انتخاب (چوائس) تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو بند کریں تو عملاً جو چیز باقی رہے گی وہ ذہنی جمود ہوگا نہ کہ صرف بے تنقید صورت حال۔ فکری آزادی فطرت کے نظام میں معاونت ہے اور فکری پابندی فطرت کے نظام میں رکاوٹ۔ دربار الہی میں قرآن میں پہلے انسان (آدم) کی پیدائش کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader