Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

وہی عرب جب تک اپنے ملک کے حدود میں بند تھے وہ کوئی علمی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ مگر جب وہ اپنے ملک سے باہر نکلے اور بیرونی قوموں سے ان کا فکری و ذہنی ٹکراؤ پیش آیا تو انھیں لوگوں نے اتنی ترقی کی کہ وہ علم وفکر کے عالمی امام بن گئے۔ یہ سارا معجزاتی واقعہ آزادانہ فکری تبادلہ کے نتیجہ میں پیش آیا۔ تنقید یا اظہار اختلاف دراصل تبادلۂ افکار ہی کا دوسرا نام ہے۔ کسی معاشرہ میں جتنا زیادہ فکری آزادی ہوگی ، اتنا ہی زیادہ وہاں فکری تبادلہ ہوگا، اور اس فکری تبادلہ کے دوران تنقید اور اظہار اختلاف کی صورتیں بھی پیدا ہوں گی۔ فطرت کا مقرر کردہ یہی واحد ترقیاتی کورس ہے، افراد کے لیے بھی اور بحیثیت مجموعی پوری قوم کے لیے بھی۔ فطرت کا نظام اسلام سے پہلے تقریباً 25 ہزار سال تک انسانی تاریخ کے آثار ملتے ہیں۔ مگر اس لمبی مدت تک انسان کوئی علمی ترقی نہ کر سکا۔ تمام علمی اور سائنسی ترقیاں بعد کو اس وقت شروع ہوئیں جبکہ اسلام نے قدیم شاہانہ جبر کے نظام کو توڑ کر دنیا میں فکری آزادی کے دور کا آغاز کیا۔ اس کا راز یہ ہے کہ ذہنی ترقی ہمیشہ تبادلۂ افکار کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اور جبر اور تقلید کے نظام میں افکار کے تبادلہ کا عمل (پراسیس) یکسر رک جاتا ہے۔ اسی بات کو امریکی ادیب والٹرپلیمان (Walter Lippmann, 1889-1974) نے ان لفظوں میں بیان کیا کہ جب تمام لوگ ایک طرح سوچیں تو کوئی بھی شخص بہت زیادہ نہیں سوچتا : When all think alike, no one thinks very much.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page