Urdu book · دینِ انسانیت

دو گواہ

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص کسی کے اوپر کوئی الزام لگائے تو البَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِی کے شرعی اصول کے مطابق اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ثبوت پیش کرے۔ ضروری ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کی بات بالکل بے بنیاد قرار دی جائے گی۔ مگر موجودہ زمانہ میں مزاجوں کے بگاڑ کی وجہ سے یہ اصول عملاً ختم ہو گیا ہے۔ خاص طور پر جس شخص سے کسی وجہ سے شکایت یا تلخی ہو جائے اس کے بارے میں تو کسی قسم کے ثبوت کی قطعا ضرورت نہیں۔ جو بھی الٹی بات اس کے بارے میں کہہ دی جائے اس کو سنتے ہی مان لیا جاتا ہے۔ نہ کوئی ثبوت مانگا جاتا اور نہ دو گواہ طلب کیے جاتے۔ یہ بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس میں ملوث ہیں۔ حتیٰ کہ اکابر تک اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں کسی کے بارے میں نہیں سنایا جانا کہ اس کے سامنے اس کے ”مخالف“ پر کوئی الزام لگایا جائے اور وہ الزام لگانے والے سے کہے کہ اپنی بات کے ثبوت میں دو گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری بات قبول نہیں کی جائے گی۔ قدیم زمانہ میں بزرگی کا مطلب وہ تھا جس کی مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ مگر آج بزرگی کا مفہوم بالکل بدل گیا ہے۔ آج ایک آدمی گواہ اور ثبوت کے بغیر ایک الٹی بات کو مان لیتا ہے، اس کے باوجود اس کی بزرگی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ پھر بھی وہ اپنے معتقدین کے درمیان بدستور مقدس بنا رہتا ہے۔ کرنے کا کام امیر تبلیغ مولانا محمد الیاس رحمتہ اللہ علیہ (1885-1944ء) کا طریقہ تھا کہ وہ کسی جماعت کو دین کے راستہ میں بھیجتے تو روانگی کے وقت اس کو یہ نصیحت کرتے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page