دینِ انسانیت
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اللہ سے ڈرنے والے شخص کا حال تھا۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس کی اگرشام کے وقت کسی سے تکرار ہو جائے تو صبح کو وہ اس کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ پچھلے دن اگر خود کسی کو برا بھلا کہا تھا تو اگلے دن اپنے ساتھیوں کو بھی اکساتا ہوا نظر آتا ہے کہ وہ اس کو ذلیل کریں۔ اگر ایک بار کسی سے شکایتی باتیں ہو گئیں تو ہمیشہ کے لیے اس کے خلاف کینہ اپنے دل میں رکھ لیتا ہے اور وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کو ذلیل اور برباد کرنے کے لیے وہ کر سکتا ہے۔ جس آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر ہو اس کے لیے اللہ کا ڈر اس کا نگہبان بن جاتا ہے۔ وہ شام کی غلطی کی تلافی صبح کو کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اللہ کے ڈر سے خالی ہو اس کا رہنما صرف اس کا نفس ہوتا ہے۔ وہ اپنے نفس کی رہنمائی میں ایک کے بعد ایک سرکشی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔ دو گواہ حاجی امداد اللہ صاحب (1899-1817) دیوبند کے بڑے بزرگوں میں سے تھے۔ ان کا طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کے بارے میں کوئی بری بات کہتا تو وہ فوراً کہتے کہ دو گواہ لے آؤ۔ اور جب وہ دو گواہ نہ لاتے تو بات کو وہیں ختم کر دیتے اور کہتے کہ جب تمہارے پاس اپنی بات کے حق میں دو گواہ نہیں ہیں تو تمہاری بات قابل اعتبار نہیں۔ یہ عین شرعی طریقہ ہے۔ اسلام میں معاملات کے اثبات کے لیے شہادت کا اصول رکھا گیا ہے۔ یعنی کوئی شخص کوئی معاملہ کرے یا کسی بات کا دعویٰ کرے تو وہ اپنے دعوے کے حق میں معتبر گواہ پیش کرے۔ زنا کے معاملہ میں چار گواہ کا اصول ہے، اور بقیہ تمام معاملات میں دو گواہ کا اصول۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader