Urdu book · دینِ انسانیت

پیغمبر کی مثال

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر کی مثال غزوہ بدر (624ء) کے ابتدائی واقعات میں سے ایک واقعہ ابن اسحاق نے اس طرح بیان کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے ہوئے تیزی سے بڑھے۔ آپ نے بدر کے قریب ایک چشمہ کے پاس پڑاؤ کیا۔ اس وقت الحباب بن المنذر بن الجموح نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ مقام کیا ایسا ہے کہ یہاں اللہ نے آپ کو اتارا ہے جس میں ہمیں یہ اختیار نہیں کہ ہم اس سے آگے بڑھیں یا اس سے پیچھے ہٹیں ۔ یا کہ یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ رائے اور جنگی تدبیر ہے (بَلْ هُوَ الرَّأْيُ وَالْحَرْبُ وَالْمَكِيدَةُ)۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، پھر تو یہ کوئی ٹھہرنے کی جگہ نہیں (فَإِنَّ هَذَا لَيْسَ بِمَنْزِلِ) آپ یہاں سے روانہ ہو کر آگے چلیے۔ ہم لوگ اس چشمہ کے پاس اتریں جو قریش کے قریب ہے۔ اور پھر پیچھے جتنے پانی کے گڑھے ہیں، ان کو ناکارہ کر دیں۔ اور وہاں ایک حوض بنا کر اس کو پانی سے بھر لیں۔ پھر ان لوگوں سے جنگ کریں۔ تا کہ ہم پانی پئیں اور وہ نہ پئیں (فَنَشْرَبُ وَلَا يَشْرَبُونَ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے بہت ٹھیک رائے دی (لَقَدْ أَشْرَبْتَ بِالرَّأْيِ)۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے سب ساتھی اٹھ کر چلے۔ یہاں تک کہ جب قریش کے قریب ترین چشمہ کے پاس پہنچے تو وہاں اتر گئے۔ پھر دوسرے چشموں کے متعلق آپ نے حکم دیا تو وہ ناکارہ کر دیے گئے۔ جس چشمہ پر آپ اترے تھے اس پر حوض بنا کر اس کو پانی سے بھر لیا گیا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 620)۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اظہار رائے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page