دینِ انسانیت
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
کھلا ماحول ہوتا تھا۔ ایک شخص نے جب آپ کی رائے کے خلاف رائے دی تو اس کو برا نہیں مانا گیا اور نہ اس پر غصہ کیا گیا۔ اس کے برعکس صرف یہ پوچھا گیا کہ تمہاری مختلف رائے کیوں ہے۔ جب اس نے وضاحت کی تو معلوم ہوا کہ اس کی رائے درست تھی۔ چنانچہ اس کی تعریف کی گئی اور فوراً اس کو قبول کر لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اختلاف رائے کا موقع دینا اور اس کو سن کر اس سے فائدہ اٹھانا بھی پیغمبر کی سنتوں میں ایک سنت ہے۔ ابو بکر صدیق کی مثال الاقرع بن حابس التتمیمی اور عُییینہ بن حصن الفزاری کا شمار مؤلفة القلوب میں ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی فتح کے دن ان میں سے ہر ایک کو تالیف قلب کے طور پر سو سو اونٹ دیے تھے (البدایہ والنہایہ 7/141) روایات میں آتا ہے کہ یہ اونٹ انھیں آپ نے ان کے قبول اسلام سے پہلے دیا۔ ابن ہمام نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں یہ دونوں صاحبان آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے خلیفہ اول سے ایک زمین طلب کی۔ خلیفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے پیش نظر مطلوبہ زمین انھیں دے دی اور ان کے کہنے پر اس کی ایک تحریر بھی لکھ کر ان کے حوالے کر دی ۔ دونوں صاحبان تحریر لے کر باہر نکلے۔ حضرت عمر سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ خلیفہ نے فلاں زمین ہمیں دے دی ہے۔ حضرت عمر نے تحریر ان سے لی اور اس کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا (فمزقہ عمر) حضرت عمر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی چیز تم کو پہلے دی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ تم لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader