بعضکم من بعض
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
پایا جاتا ہے۔ مگر جس طرح مرد اور مرد یا عورت اور عورت میں جسمانی فرق سے انسانی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اسی طرح عورت اور مرد کے درمیان جسمانی فرق کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں جنسوں کے درمیان انسانی فرق کیا جائے۔ میدان کار کے اعتبار سے دونوں میں تقسیم ہے مگر انسانی مرتبہ کے اعتبار سے دونوں میں کوئی تقسیم نہیں۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، دنیا کی طرح آخرت میں بھی مرد اور عورت کا معاملہ یکساں ہے۔ دونوں کا یکساں طور پر حساب لیا جائے گا۔ دونوں کے قول وعمل کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے گا۔ جو چیز مرد کے لیے نجات کا ذریعہ ہوگی، وہی عورت کے لیے بھی نجات کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو چیز عورت کی فلاح و کامیابی کا فیصلہ کرے گی وہ مرد کے لیے بھی فلاح و کامیابی کی ضامن ہوگی۔ جانچ کا وہ معیار کیا ہے، مذکورہ آیتوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معیار یہ ہے۔ کائنات میں غور وفکر سے معرفت حاصل کرنا، خداوند عالم کا اقرار، خدا کے پیغمبر پر ایمان، آخرت کی تڑپ، خدا کے لیے ہجرت۔ خدا کی راہ میں جدوجہد، تقوی، خشوع اور صبر۔ کائنات معرفت کا خزانہ ہے۔ مرد اور عورت جب اس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتے ہیں تو ان کو اس سے روحانی غذا ملتی ہے، ان کو اس میں حق کی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس طرح کائنات میں غور کر کے وہ خالق کائنات کو پا لیتے ہیں۔ کائنات کی معنویت اور خدا کی موجودگی کی دریافت ان کو بتاتی ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس دنیا میں آزاد نہیں ہوسکتا۔ ضروری ہے کہ ہر ایک سے اس کے قول وعمل کا حساب لیا جائے۔ اور اس کے ریکارڈ کے مطابق اس کو اس کا بدلہ دیا جائے۔ وہ خدا پر ایمان کے ساتھ پیغمبر خدا پر ایمان کے لیے بھی مجبور ہو جاتا ہے کیونکہ پیغمبر کی رہنمائی کے بغیر خدا کی عبادت واطاعت نہیں کی جاسکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader