Urdu book · دینِ انسانیت

بعضکم من بعض

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اس کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر خالق کی دریافت ان کو داعی حق کی دریافت تک پہنچاتی ہے۔ وہ اس کا اعتراف کر کے اس کا ساتھ دیتے ہیں تا کہ آخرت میں ان کو نجات یافتہ گروہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہو۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ان کے رب نے ان کے حق میں ان کی دعا قبول فرمائی اور کہا کہ: میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو (بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ) ۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، ان کی خطاؤں کو ضرور میں ان سے دور کر دوں گا۔ اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے (3:195)۔ قرآن کے اس بیان میں مرد اور عورت کے لیے (بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو: You are members, one of another. دوسرے لفظوں میں یہ کہ عورت مرد کا نصف آخر ہے، اور مرد عورت کا نصف ثانی۔ گویا قرآن کے مطابق، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے یکساں حصہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے برابر کے ساتھی ہیں۔ انسانی مرتبہ کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق وامتیار نہیں۔ جو درجہ ایک کا ہے وہی درجہ دوسرے کا ہے۔ فرق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک جسمانی فرق، دوسرا ہے انسانی فرق۔ جسمانی فرق مرد اور مرد، عورت اور عورت میں بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح عورت اور مرد کے درمیان بھی جسمانی فرق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page