Urdu book · دینِ انسانیت

عورت، مرد

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

عورت ، مرد اسلام کے مطابق، عورت اور مرد یکساں درجہ میں عزت اور تکریم کے مستحق ہیں۔ قرآن (3:195) میں فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو (You are (members, one of another حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرد کی طہارت کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔ آپ نے مسئلہ بیان کیا تو ایک عورت نے پوچھا: فَلِلْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ أَعَلَيْهَا غُسْلُ؟۔ یعنی، عورت کے ساتھ بھی ایسا ہی پیش آئے تو کیا اس پر غسل ہے۔ آپ نے جواب دیا: نَعَمْ ، إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 236) ۔ یعنی، عورتیں مردوں کا نصف ثانی ہیں۔ شقیق یا شقیقہ کے معنی ہیں دو برابر کے حصوں میں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ اسی لیے بھائی کو شقیق اور بہن کو شقیقہ کہتے ہیں۔ اس حدیث کا صحیح ترجمہ یہی ہے کہ عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ عورت مرد کی شریک حیات ہے، اور اسی طرح مرد عورت کا شریک حیات۔ دونوں یکساں طور پر ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ کسی ایک فرد کے اندر تمام مطلوب صفات نہیں ہو سکتیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صفات انسانی کو دو ہستیوں میں بانٹ دیا ہے۔ عورت کے اندر نرمی والی صفات رکھ دیں تاکہ وہ مرد کے لیے سکون کا باعث ہو (الروم، 30:21) ، اور دوسری طرف مرد کے اندر قوامیت والی صفات رکھ دیں تا کہ عورت اس سے اعتماد حاصل کر سکے (النساء، 4:34)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page