دینِ انسانیت
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
صفات کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر حالات میں دونوں کا میدان کار الگ الگ ہو جاتا ہے۔ اس علیحدگی کا مزید فائدہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن جاتے ہیں۔ اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے ان میں کا ایک جن باتوں کے درمیان گھرا ہوا ہوتا ہے، دوسرا اس سے غیر متعلق رہ کر آزادانہ طور پر سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جب ان میں کا ایک متاثرہ ذہن کے تحت سوچے تو ان میں کا دوسرا غیر متاثرہ ذہن کے تحت اس کی رہنمائی کر سکے۔ خاتون جنت قرآن میں وہ تمام بنیادی صفات بتائی گئی ہیں جو جنتی خاتون میں ہونا ضروری ہیں۔ یہ صفتیں کسی عورت کو مغفرت اور اجر عظیم کا مستحق بناتی ہیں۔ وہ اس کے لیے آخرت کے عذاب سے نجات کو یقینی بنانے والی ہیں۔ (الاحزاب، 33:35) اور (التحریم، 66:5) کے مطابق وہ صفات حسب ذیل ہیں: ایمان ، اسلام ، قنوت ، صدق ، صبر ، خشوع ، صدقه ، صوم ، حفظ فروج ، ذکر الله ، توبه ، عبادت ، سیاحت ۔ 1۔ ایمان سے مراد معرفت رب ہے۔ یعنی اپنے خالق و مالک کو اس طرح شعوری طور پر دریافت کرنا کہ وہ آپ کی سوچ پر چھا جائے۔ وہ آپ کے دل کے اندر سا جائے۔ آپ کی پوری شخصیت خدا کے نور سے نہا اٹھے۔ 2۔ اسلام کے معنی اطاعت کے ہیں۔ اس سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے۔ یعنی آپ کا نفس اللہ کی اطاعت پر پوری طرح قائم ہو جائے۔ آپ اللہ کی پیروی میں اپنی زندگی گزارنے لگیں۔ آپ کی مرضی کا ہر قولی یا عملی اظہار عین اس کے مطابق ہو جس کا اللہ نے حکم فرمایا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader