تقسیم کار
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی مکہ کے قریب غار حرا میں اتری۔ یہ آپ کے لیے ایک غیر متوقع تجربہ تھا۔ آپ غار سے نکل کر اپنے گھر میں واپس آئے تو روایات کے مطابق آپ کانپ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو کمبل اڑھادیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غار حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھ کو اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے اس وقت یہ الفاظ کہے: کَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3)۔ ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا، آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، گمنام لوگوں کو کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور قدرتی آفتوں کے شکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دینے کے لیے جو کلمات کہے وہ بلاشبہ اپنے موقع کے لحاظ سے بہترین کلمات تھے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ حضرت خدیجہؓ کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ اس نازک موقع پر ایسے پر اعتماد الفاظ کہہ سکیں۔ اس کی خاص وجہ آپ کا مذکورہ طوفان خیز تجربہ سے الگ رہنا ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میں بعض اوقات وہ شخص غیر متاثر رائے قائم نہیں کرتا جو خود مسئلہ کے اندر گھرا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا مشیر ہو جو خود مسئلہ سے متعلق نہ ہوتا کہ اس کی بابت وہ غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر سکے۔ حضرت خدیجہؓ کا مذکورہ قول اسی کی ایک مثال ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے، اس تقسیم سے جو فوائد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader