Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبات کی رعایت کرنا ہے۔ اس کو اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہونا ہے۔ اس کو اپنے خونی رشتوں کے احترام کے ساتھ اپنے غیر خونی رشتوں کا بھی پورا لحاظ رکھنا ہے۔ اور یہ سب کچھ یہ سمجھ کر کرنا ہے کہ وہ کسی مرد یا کسی عورت کے سامنے نہیں جھک رہی ہے، بلکہ خالقِ فطرت کے آگے جھک رہی ہے، کیوں کہ خالقِ فطرت کی مرضی یہی ہے۔ زوجین کے اصول کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ مرد کے ساتھ عورت ہے اور عورت کے ساتھ مرد۔ مگر وسیع تر معنی میں وہ پوری زندگی کو سموئے ہوئے ہے۔ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مرد اور عورت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زندگی عالمی انسانی اشتراک کا ایک نظام ہے۔ کوئی مرد یا کوئی عورت اس عمومی زنجیر کی صرف ایک کڑی ہے۔ ایک کڑی کے ٹوٹنے سے پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے ہر کڑی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سالمیت کو آخری حد تک باقی رکھے تاکہ فطرت کا قائم کردہ نظامِ حیات شکست و ریخت کا شکار نہ ہونے پائے۔ تقسیم کار ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی صالح بیوی سے بہتر نہیں : لَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ المَرْأَةِ الصَّالِحَةِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1855)۔ عورت کی اس خصوصیت کے بہت سے پہلو ہیں ۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ صالح عورت اپنی مخصوص حیثیت کی بنا پر مرد کی بہترین ساتھی اور بہترین مشیر ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کے دو واقعے نقل کیے جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page