دینِ انسانیت
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
محسوس کر لیا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرح ام سلمہ کو اس نازک موقع پر جو قیمتی بات سوجھی، وہ اس لیے سوجھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں۔ اور اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں۔ بصورت دیگر ان کے لیے ایسا کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔ بہترین خزانہ قرآن میں ہے کہ: اے ایمان والو، اہل کتاب کے اکثر علما اور مشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ اس دن اس مال پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی— یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کیا تھا۔ پس اب چکھو جو تم جمع کرتے رہے (9:34-35)۔ یہ آیت قرآن میں اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بُرا ہو سونے کا اور بُرا ہو چاندی کا (مسند احمد، حدیث نمبر 23101)۔ یہ بات صحابہ پر بہت شاق گزری۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ پھر اور کون سا مال ہم اپنے پاس رکھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس کی بات دریافت کروں۔ لوگوں نے کہا کہ ضرور۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب پر یہ بات بہت شاق ہو رہی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ پھر ہم کون سا مال اکٹھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader