Urdu book · دینِ انسانیت

بہترین خزانہ

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نَعَمْ! فَيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى إِيمَانِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 829)۔ ہاں تم میں سے جس شخص کو اپنانا ہے وہ خدا کو یاد کرنے والی زبان کو اپنائے، وہ شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایک ایسی بیوی کو اپنائے جو اس کے دین میں، اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کی مدد کرے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ بہترین خزانہ کیا ہے جس کو آدمی اپنے لیے جمع کرے۔ بہترین خزانہ وہ صالح عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے اور جب وہ اس سے کوئی بات کہے تو وہ اس کی تعمیل کرے۔ اور جب وہ گھر میں موجود نہ ہو تو نفس اور مال میں اس کی حفاظت کرے : أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرٍ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظْتْهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1664) وفي رواية فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2115)۔ اس حدیث میں عورت کو کسی مرد کے لیے سب سے اچھا خزانہ کہا گیا ہے۔ اور یہ بات صد فی صد درست ہے۔ سونا اور چاندی یا مال صرف مادی ضرورت پورا کرتے ہیں۔ مگر ایک صالح خاتون گھر کو اور خاندان کو خوشی اور سکون اور محبت کا گہوارہ بناتی ہے۔ ایک صالح خاتون اپنے میٹھے بول سے گھر میں مٹھاس بکھیرتی ہے۔ وہ اپنے اچھے اخلاق سے پورے ماحول کو انسانیت کا ماحول بناتی ہے۔ اس کا شریفانہ برتاؤ ہر ایک کو شرافت کی تربیت دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی پیدائشی نرمی اس کو نرم گفتار اور نرم کردار بناتی ہے، اور پھر گھر کی پوری فضا اسی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ عورت اپنی فطری صلاحیت اور اپنے فطری حالات کے اعتبار سے گھر کی انچارج ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page