Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

گھر کے نظام میں اس کو مرکزی شخصیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے گھر کے بننے یا بگڑنے میں اس کا رول بے حد اہم ہے۔ ایک عورت کے بننے سے گھر بنتا ہے اور ایک عورت کے بگڑنے سے گھر بگڑ جاتا ہے۔ اسی لیے عورت کو بہترین خزانہ کہا گیا ہے۔ عورت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ گھر کو مسرتوں کا باغ بنائے۔ اس کے شوہر کو اور گھر کے دوسرے افراد کو اس سے خوشی کا تحفہ مل رہا ہو۔ ہر ایک کے لیے اس کا وجود نفع بخشی اور فیض رسانی کا ذریعہ بن گیا ہو۔ شوہر کو اور گھر کے افراد کو یہ یقین ہو کہ خواہ وہ موجود ہوں یا غیر موجود ہوں، ہمیشہ گھر کے اندر ان کا ذکر خیر خواہی کے ساتھ کیا جائے گا۔ ہمیشہ ان کو وہ سلوک ملے گا جو ان کی دنیا و آخرت کے لیے سب سے بہتر ہو۔ عورت گھر کا خزانہ ہے، بلکہ سب سے اچھا خزانہ، عورت گھر کے باغ کا پھول ہے، بلکہ سب سے اچھا پھول۔ عورت گھر کی دنیا کی روشنی ہے، بلکہ سب سے اچھی روشنی۔ مگر کوئی عورت اپنا یہ فطری کردار اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ وہ باشعور ہو، جب کہ وہ اپنے احساسات کے ساتھ دوسروں کے احساسات کو بھی جانے۔ جب کہ اس کے اندر یہ عزم ہو کہ وہ بہرحال اس انسانی کردار کو ادا کرے گی جو خالق نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، خواہ اس کے لیے اسے صبر و برداشت کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔ خیر کثیر قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ایک مقام پر مردوں کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ عورت کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر ظلم و زیادتی نہ کریں۔ اس سلسلہ میں ضروری احکام دینے کے بعد ایک اصولی اور جامع تعلیم دی گئی ہے جو یہ ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page