خیر کثیر
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا کرنا کسی عورت یا کسی مرد سے موافقت کرنا نہیں ہے بلکہ وہ خود فطرت کے نظام سے موافقت کرنا ہے۔ اور جب معاملہ کسی عورت یا کسی مرد کا نہ ہو بلکہ فطرت کا ہو تو آدمی کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی و استحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انکی خوبیوں کو ظہور میں آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں اس صبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنتوں میں داخلہ کا پروانہ حاصل کریں گے۔ مذکورہ اصول اس سورہ میں اگرچہ شوہر اور بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی موجود ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم دیتے ہوئے اس کے درمیان ایسی کلی ہدایت دے دی جاتی ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہو۔ دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا بالکل ضروری ہے۔ کوئی عورت یا مرد دوسروں سے الگ تھلگ زندگی نہیں گزار سکتے۔ اب چونکہ لوگوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ ہر ایک کی طبیعت الگ الگ ہے اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے تو ان کے درمیان لازما اختلاف اور شکایت والی باتیں پیدا ہوں گی ، ایسی حالت میں زندگی گزارنے کی قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے۔ اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک کمی یا خرابی دوسرے کے سامنے آتی ہے۔ وہ فوراً اس سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader