دینِ انسانیت
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
حالانکہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں ایک یا ایک سے زیادہ موافق پہلو موجود ہے۔ مثلاً کسی عورت یا مرد میں اگر ظاہری کشش کم ہو تو اس کے اندر عملی صلاحیت زیادہ ہوگی۔ اگر اس کے مزاج میں کوئی پہلو ناپسندیدہ ہو تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر ذہنی اعتبار سے اعلیٰ صلاحیت موجود ہو۔ اگر کوئی شخص ابتدائی مرحلہ میں کم پیسہ والا ہے تو اس کے اندر یہ استعداد ہوسکتی ہے کہ وہ محنت کر کے آئندہ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کرلے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اخلاق نسواں اخلاق اس اجتماعی سلوک کا نام ہے جو دوسروں سے معاملات اور تعلقات کے دوران کوئی مرد یا عورت انجام دیتا ہے۔ اسلام کا حکم ہے کہ ایسے ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاقی سلوک کیا جائے۔ یہ حکم عورت سے بھی اتنا ہی متعلق ہے جتنا کہ مرد سے متعلق ہے۔ آپ کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ جب آپ اپنی زبان کھولیں تو جھوٹ کے لیے نہ کھولیں بلکہ سچ کے لیے کھولیں۔ ہمیشہ انصاف کی بات بولیں۔ کسی کے خلاف الزام تراشی نہ کریں۔ بلکہ وہ بات کہیں جس میں دوسروں کے لیے خیر خواہی پائی جاتی ہو۔ آپ کا بولنا سچائی کے اظہار کے لیے ہو، نہ کہ سچائی کو چھپانے کے لیے۔ جب کوئی حق آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو فوراً اس کا اعتراف کر لیں، آپ کی زبان سے کبھی پست بات نہ نکلے بلکہ جب بھی نکلے تو اعلیٰ انسانیت کی بات نکلے۔ آپ کا کلام تواضع، شرافت، شکر گزاری، خیر پسندی اور اعتراف حق کے احساسات سے بھرا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader