اخلاق نسواں
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے متحرک ہوئے۔ جس کی زبان گویا ہوئی تو لوگوں کو اس سے خدائی محبت اور انسانی خیر خواہی کی باتیں سنہ کرلیں۔ حدیث میں ہے کہ تم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو سلوک اپنے لیے پسند کرتے ہو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 13)۔ یہ اصول مومن عورت کے لیے بھی ہے اور مومن مرد کے لیے بھی۔ یہ نہایت سادہ کسوٹی ہے جس سے کوئی عورت یا مرد ہر لمحہ جان سکتا ہے کہ اس کو دوسروں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ بدگوئی اسے پسند نہیں، اس لیے وہ دوسروں کے خلاف بھی بدگوئی نہ کرے اور ہمیشہ میٹھے کلام سے دوسروں کا استقبال کرے۔ اسی طرح ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے تو اس کو پسند آئے گا، اب اس کو چاہیے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی برتے، کسی کے ساتھ بھی بدخواہی کا معاملہ نہ کرے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ کوئی اس کو نفع پہنچائے تو اس کو خوشی ہوتی ہے۔ اب ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی ذات سے کبھی کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ کوئی شخص اس کی راہ میں رکاوٹ بنے تو ایسی روش اس کو ناپسند ہوتی ہے، اب اس کو سخت احتیاط کرنا چاہیے کہ اس کی کوئی روش کسی کی راہ رو کرنے کے ہم معنی بن جائے۔ برے اخلاق کی جڑ عام طور پر دو چیزیں ہوتی ہیں — حرص اور غصہ۔ حرص کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے واجبی حق سے زیادہ کا خواہشمند بن جائے۔ جب بھی کوئی مرد یا عورت اس طرح حرص کا شکار ہو جائیں تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتے۔ غصہ یہ ہے کہ آدمی اپنے مزاج کے خلاف باتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ یہ بہت برا مزاج ہے۔ اس کی بھاری قیمت دینی پڑتی ہے، اور وہ خدا کی رحمت سے محرومی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader