اخلاق نسواں
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ہے کہ:مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً (16:97)۔ یعنی ، جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اس کو جلائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صالح اعمال یا اچھے اخلاق کا تعلق صرف دوسروں سے نہیں ہے، جو لوگ ایسا کریں خود ان کی ذات کو اس کا یقینی فائدہ سب سے پہلے پہنچتا ہے۔ جب آپ سچ بولیں تو اس سے آپ کو ایک خاص قسم کا روحانی سکون ملتا ہے۔ آپ کے اندر ایک بے تضاد شخصیت پرورش پانے لگتی ہے۔ جب خاندان کے ایک فرد سے آپ کو تکلیف پہنچے اور آپ اللہ کی خاطر اس کو بھلا دیں اور اس کے حق میں نیک دعا کریں تو آپ کے اندر انسانی خیر خواہی کا ایک چشمہ ابل پڑتا ہے جس کی ٹھنڈک آپ کے دل و دماغ تک پہنچتی ہے۔ اگر آپ کے لڑکے اور کسی دوسرے لڑکے کے درمیان تکرار ہوتی ہے، اس وقت آپ کا رویہ بیٹے کی طرف داری کا نہیں ہوتا بلکہ حق کی طرف داری کا ہوتا ہے تو ایسی روش سے آپ کو ایک ایسا ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے جو بھاری قیمت دے کر بھی خریدا نہیں جاسکتا۔ اوپر کی آیت میں جس چیز کو حیات طیبہ (اچھی زندگی) کہا گیا ہے۔ وہی دنیا میں ضمیر کے اطمینان اور دل کے سکون کا ذریعہ ہے۔ اور یہی حیات طیبہ کسی کو اس قابل بناتی ہے کہ آخرت میں اس کے لیے جنت کے ابدی دروازے کھولے جائیں۔ جنت کس کو ملے گی، اس عورت یا مرد کو جسے یہاں حیات طیبہ ملی۔ جس کا دماغ نور الہی سے روشن ہوا۔ جس کے دل میں ربانی کیفیات کے چشمے پھوٹے۔ جس کا سینہ یاد خداوندی کے طوفان سے آشنا ہوا۔ جس کی آنکھوں نے خدائی منظر کے سوا ہر دوسرے منظر کو دیکھنے سے انکار کر دیا۔ جس کے ہاتھ اٹھے تو خدا کے لیے اٹھے۔ جس کے قدم متحرک ہوئے تو خدا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader