Urdu book · دینِ انسانیت

مومن کا گھر

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس طرح تمام مسلمانوں کی زندگی کے لیے نمونہ تھی، اسی طرح آپ کا گھر بھی تمام گھروں کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قیامت تک تمام مسلم مردوں اور تمام مسلم عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھروں کو اسی خاص نمونہ پر ڈھالیں جس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں قائم فرمایا ہے۔ 1۔ مسلم خواتین کو اپنے گھروں کو اپنے عمل کا مرکز بنانا چاہیے۔ گھر گویا سماجی زندگی کی ابتدائی اکائی ہے، اور عورت کا کام یہ ہے کہ وہ اس اکائی کو درست کرے۔ کیوں کہ مختلف اکائیوں کا درست ہونا آخر کار پورے سماج کا درست ہونا ہے۔ 2۔ مسلم خاتون کے گھر کے ماحول کو سادہ اور بے تکلف ہونا چاہیے، نہ کہ زرق برق اور چمک دمک والا۔ زرق برق گھر میں مادی فضا ہوتی ہے، اور سادہ گھر میں روحانی فضا۔ زرق برق گھر دنیا کی یاد دلاتا ہے، اور سادہ گھر آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ زرق برق گھر میں مادی ذہن پرورش پاتا ہے، اور سادہ گھر میں دعوتی اور مقصدی ذہن۔ زرق برق گھر میں ادنیٰ شخصیت کی نشوونما ہوتی ہے، اور سادہ گھر میں اعلیٰ شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ 3۔ مومن خاتون کا گھر عبادت کا گھر ہوتا ہے — پانچ وقت کی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی، اللہ اور رسول کا چرچا، فضول چیزوں میں مشغولیت کے بجائے دین میں مشغولیت، یہ وہ چیزیں ہیں جو مومنہ مسلم کے گھر میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ 4۔ اہل اسلام کے گھر میں خدا اور رسول کی اطاعت کا چرچا ہوتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں اللہ کا حکم کیا ہے، اور رسول خدا کی سنت کیا ہے۔ صحابہ کی زندگی میں کیا نمونہ ملتا ہے۔ اس طرح خدائی احکام اور رسول اور صحابہ رسول کے نمونہ سے ہدایت لیتے ہوئے گھر کو ایمان و اسلام کا گھر بنا دیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page