دینِ انسانیت
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
5۔ مومن کا گھر پاکیزگی کا گھر ہوتا ہے۔ جس طرح غسل خانہ میں آدمی نہاتا ہے اور اس سے اس کا مادی جسم پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مومن کا گھر روح کی پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں شرافت، انسانیت، سنجیدگی، اصول پسندی اور اعتراف حق کی خوشبو بسی ہوئی ہوتی ہے۔ جو لوگ اس ماحول میں رہتے ہیں، ان کی شخصیت مسلسل نکھرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکلتے ہیں تو وہ ایک ربانی انسان بن چکے ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے گھر کو اس لحاظ سے بناتے ہیں کہ دیکھنے والے لوگ اس کو اچھا سمجھیں۔ مومن عورت اور مومن مرد اپنا گھر اس لحاظ سے بناتا ہے کہ وہ اللہ کی پسند کے مطابق ہو اور اللہ کے فرشتے وہاں آکر اس کو برکت دیں اور اس کو دنیا و آخرت کی سعادت سے بھر دیں۔ یہاں ازواجِ رسول کو خطاب کرتے ہوئے مسلم عورتوں کو یہ عام ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کس طرح رہیں۔ اور اپنے گھروں کو کس نمونہ پر ڈھالیں۔ مسلم خاتون کو عام حالات میں اپنے گھر کے دائرہ میں رہنا چاہیے۔ دنیا دار عورتوں کی طرح زیب وزینت کی نمائش کا طریقہ انہیں اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی توجہ کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت گزار بن جائیں۔ وہ اپنے اثاثہ کو اللہ کے لیے خرچ کریں۔ زندگی کے معاملات میں اللہ اور رسول کا جو حکم ملے اس کو فوراً اختیار کر لیں۔ وہ اللہ اور رسول کی باتوں کو سننے اور سمجھنے میں اپنا وقت گزاریں۔ یہ طرزِ زندگی وہ ہے جو بندوں کو پاک باز بناتا ہے، اور پاک باز بندے ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔ تربیت اولاد ابو عیسیٰ الترمنذی نے اپنی سنن میں اور ابو بکر البہیقی نے شعب الایمان میں ایوب بن موسیٰ کی ایک روایت نقل کی ہے، جس کو انہوں نے اپنے والد سے سنا اور والد نے اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader