Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد مسجد میں جو واقعہ پیش آیا وہ راوی کے الفاظ میں یہ تھا کہ حضرت عمر خوش ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے مسلمانوں میں ایسے افراد بنائے جو عمر کی ٹیرھ کو اپنی تلوار سے سیدھا کر دیں گے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي جَعَلَنِي فِي قَوْمٍ اِذَا مِلْتُ عَدَلُونِی (الزہد و الرقائق لابن المبارک، اثر نمبر 512)۔ اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشد کی یہ مثال بتاتی ہے کہ تنقید و اختلاف کوئی مبغوض چیز نہیں، بلکہ وہ انتہائی محبوب چیز ہے۔ حتیٰ کہ ایک عام آدمی اگر خلیفۂ وقت کے خلاف غیر مودبانہ انداز میں بولے تب بھی اس کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تنقید کے وقت ناقد کو نہ دیکھو، بلکہ اپنے آپ کو دیکھو۔ ناقد اگر تمہاری کسی غلطی کی نشاندہی کر رہا ہے تو وہ عین تمہاری بھلائی کا کام کر رہا ہے۔ ایسے اچھے کام کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنی بات کہنے کے لیے نامناسب اسلوب اختیار کیا تھا۔ خلیفۂ دوم کے اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں جو بڑے لوگ ہوں انھیں چاہیے کہ وہ آزادانہ اظہارِ خیال کی حوصلہ افزائی کریں۔ حتیٰ کہ خود اپنے آپ کو کھلی تنقید کے لیے پیش کریں۔ اور یہ پیش کرنا حقیقی طور پر ہو نہ کہ مصنوعی طور پر۔ عثمان غنی کی مثال حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے ایک روز حضرت عثمان سے بحث کی۔ انھوں نے کہا کہ میں تین چیزوں میں آپ سے افضل ہوں۔ حضرت عثمان نے پوچھا کہ وہ کیا چیزیں ہیں ۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے جواب دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page